مرکز ابلاغ

امارات پوسٹ کے رمول مرکز چھانٹی میں بڑے سائز کے میگزین کی خود کار چھٹائی کے لیے نئی مشین کی اضافہ
28 DEC 2016

امارات پوسٹ کے رمول مرکز چھانٹی میں بڑے سائز کے میگزین کی خود کار چھٹائی کے لیے نئی مشین کی اضافہ

امارات پوسٹ گروپ کا رمول چھانٹی مرکز ( سارٹنگ سنٹر) جو کہ یو اے ای بھر سے آنے والی اور جانے والی ڈاک کو ہینڈل کرتا ہے، اس میں ایک نئی اور جدید چھانٹی مشین کا اضافہ ہوا ہے جو کہ بڑے سائز کے میگزین اور پرنٹ پبلیکیشنز کو خود کار طریقے سے چھاٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

خطے کا سب سے زیادہ جدید چھانٹی مرکز مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کررہا ہے جس کی وجہ یو اے ای کی بڑھتی ہوئی آبادی اور تیز رفتارکاروباری سیکٹر ہیں۔ رمول کے چھانٹی مرکز پر آنے اور جانے والی ڈاک کا ایک بڑا حصہ میگزین اور بروشرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اس نئی مشین کی تنصیب سے پہلے بڑے سائز کے میگزین اور بروشرز کی چھانٹی کا کام ہاتھوں سے کیا جاتا تھا۔

" رمول چھانٹی مرکز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ ڈاک کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو باآسانی سنبھال سکے لیکن اس میں بڑے سائز کے میگزین اور پارسلز کو خود کار طریقے سے چھانٹنے کی صلاحیت نہیں تھی۔" امارات پوسٹ گروپ کے کے قائم مقام سی ای او جناب عبداللہ الاشرم نے کہا۔ " اس نئی مشین کی تنصیب کے بعد اب ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ بڑے سائز کی پیبلیکیشنز کو تیزرفتاری سے چھانٹ سکیں جس سے اس بات کی مزید توثیق ہوجاتی ہے کہ ہمارے پاس خطے کا سب سے زیادہ جدید چھانٹی مرکز موجود ہے۔"

رمول کے چھانٹی مرکز پر آنے جانے والی ڈاک اور پارسل کی ماہانہ تعداد 20 میلین کے لگ بھگ ہے جس میں سے 5 میلین کے قریب بین الاقوامی ترسیل ہوتی ہیں۔ اس مرکز میں چھانٹی کے لیے انتہائی جدید مشینیں موجود ہیں جو کہ ڈاک پر لکھے پتے کو خود کار طریقے سے پڑھتی ہیں اورپتے کی مناسبت سے ان کے موزوں خانوں میں انتہائی تیزی سے منتقل کردیتی ہیں۔

رمول چھانٹی مرکز ڈاک کی پروسسنگ اور ترسیل خود کار طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت کا حامل ہے اور اس میں بڑے سائز کے لفافے اور بھاری پارسلز کو ہینڈل کرنے کی پوری گنجائش موجود ہے۔

" ای پی جی کے پورے سارٹنگ آپریشنز میں رمول کے چھانٹی مرکز کو ایک حب کی حیثیت حاصل ہے اور اسے مستقبل کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یو اے ای کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کے نتیجے میں آنے والی اور جانے والی دونوں طرح کی ڈاک کے حجم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں صورت حال اس سے مختلف ہے جہاں انٹرنیٹ اور آن لائن رابطوں کی مقبولیت کے باعث ڈاک کے حجم میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔" جناب الاشرم نے کہا۔

دبئی انٹرنیشنل سنٹر سے قریب واقع ہونے کی وجہ سے رمول کا چھانٹی مرکز آنے والی اور جانے والی ڈاک کی تیز رفتار وصولی اور ترسیل میں اپنا مقام بنا چکا ہے۔ اس کا نظم و نسق انتہائی تربیت یافتہ اسٹاف چلا رہا ہے اور اس کے پاس بڑی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں جو کہ پورے یو اے ای سے ڈاک کی وصولی اور ترسیل کا کام انجام دے رہی ہیں


شارك برأيك
X
صوت العميل
لائیو چیٹ