مرکز ابلاغ

اماراتی سکول کی گیارہ سالہ طالبہ، یو پی یو بین الاقوامی مقابلۂ خط نویسی میں پانچواں درجہ حاصل کرتی ہے
19 OCT 2015

اماراتی سکول کی گیارہ سالہ طالبہ، یو پی یو بین الاقوامی مقابلۂ خط نویسی میں پانچواں درجہ حاصل کرتی ہے

شارجہ کے البطحہ سکول کی ایک گیارہ سالہ اماراتی طالبہ عا لیہ عجيل محمد خميس بلسوب الکتبی نے، یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) کے زیراہتمام نوجوان نسل کے لیے ہونے والے بین الاقوامی مقابلہ برائے خط نویسی 2015 میں پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ جس کا عنوان تھا "دنیا جس میں وہ جینا چاہیں گے"

سونا، چاندی اور کانسی جیتنے والوں کے بعد، 'خاص ناموں' کی لسٹ میں عالیہ کا نام دوسرے نمبر پر تھا۔ ججوں نے عالیہ کی اس تخلیقی صلاحیت کی تعریف کی جس کے ذریعے اُس نے عربی میں لکھے گئے اس خط میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

یو پی یو کے ڈائریکٹر جنرل جناب بشار اے حسین نے عالیہ کو ایک ذاتی مبارکباد کے خط میں کہا: "بین الاقوامی ججوں نے اس تخلیقی صلاحیت کی تعریف کی ہے جس کے ذریعے تم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔" جس دنیا میں آپ رہنا چاہتی ہیں اس کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کرنے پر میں ذاتی طور پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یو پی یو کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے میں بہت خوش ہوں کہ خط نویسی کا فن ابھی زندہ ہے اور خوب ہے۔ مجھے خاص طور پر یہ اچھا لگا کہ دنیا کے نوجوان اس قدر اعلیٰ معیار کے ساتھ ابھی بھی اس پر قابل پیرا ہیں"۔

چیف کمرشل آفیسر ابراہیم بن کرم نے کہا: "امارات پوسٹ گروپ خوش ہے کہ ایک اماراتی طالبہ نے سالانہ یو پی یو مقابلہَ خط نویسی میں خود کو نمایاں کیا ہے۔ ہم عالیہ، اس کے سکول اور اس کے خاندان کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔ اُس کا جیتا ہوا خط یہ ظاہر کرتا ہے کہ آج کی نسل نے خط نویسی کے فن کو کھویا نہیں ہے۔ آج کے اس برقی دور میں یہ بڑی بات ہے کہ نوجوان لوگ ابھی تک ہاتھ سے لکھے خطوط لکھ رہے ہیں اور انہیں پوسٹ کر رہے ہیں"۔

یو پی یو نے نوجون نسل کے لئے اپنے بین الاقوامی مقابلہ برائے خط نویسی کے 44 ویں ایڈیشن کے لئے 65 ملکوں سے اندراجات وصول کئے۔ نوجوانوں کو 'دنیا جس میں وہ جینا چاہتے ہیں' کے عنوان پر ایک خط لکھنے کی دعوت دی گئی۔ قومی سطح پر ہونے والے یو پی یو مقابلے میں دنیا بھر سے ایک ملین سے زائد طلباء نے حصہ لیا۔

یو پی یو کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے مقابلے میں دنیا بھر کے 14000 سے زائد سکولوں نے شمولیت کی۔ دنیا بھر کے ماہر ججوں نے پوری دنیا سے آنے والے بہترین خطوط کا انتخاب کیا، جن میں سونا،چاندی اور کانسی کے تمغے جیتنے والے پہلے تین فاتحین شامل تھے۔ لبنان سے سارہ جدید نے "جنگ کے بغیر دنیا "کی پُر خلوص درخواست پر پہلا انعام حاصل کیا۔ نوخاص ناموں نے، جس میں عالیہ کا نام بھی شامل ہے، خاص سرٹیفکیٹ اور تحفے حاصل کیے۔

اس سال کا مقابلہ ڈاک۔2015 کے دیرپا ترقیاتی اہداف سے مربوط ہے۔ جیتنے والوں کا اعلان سرکاری طور پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی سربراہی اجلاس سے پہلے ستمبر میں کیا گیا،جہاں رکن ریاستوں نے میلینیم ڈیویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) 2000۔2015 میں حاصل کردہ ترقی کو مزید بڑھانے کے لئے نئے اہداف مقرر کئے۔


شارك برأيك
X
صوت العميل
لائیو چیٹ