مرکز ابلاغ

یو اے ای کے صدرعزت مآب شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے اہم منصوبوں پر ٹکٹیں
30 JUL 2015

یو اے ای کے صدرعزت مآب شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے اہم منصوبوں پر ٹکٹیں

امارات پوسٹ گروپ نے یو اے ای کے صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے اہم تدبیری منصوبوں پر مبنی یادگاری ڈاک ٹکٹوں کے ایک سیٹ کا اجرا کیا ہے۔

یہ ٹکٹیں یو اے ای کے ان چار بڑے منصوبوں کے بارے میں ہیں: اتحاد ریل، مصدر سٹی، شمس 1 شمسی توانائی پلانٹ اور خلیفہ بندرگاہ-

"عزت مآب صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے وژن کے تحت چلنے والے یو اے ای کے اہم ترین منصوبوں میں سے چار منصوبوں پر مبنی ان ڈاک ٹکٹوں کا اجراء امارات پوسٹ گروپ کے لیے باعث عزت ہے۔" ای پی جی کے چیف کمرشل آفیسر جناب ابراہیم بن کرم نے کہا۔ "ان منصوبوں میں سے ہر ایک منصوبہ نہ صرف مضبوط تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یو اے ای کے لیے چار مختلف شعبوں میں اٹھائے گئے ایک بڑے قدم کا پیش خیمہ ہے"۔"ہمیں خوشی ہے کہ ہم خوشحالی کے ان منصوبوں کو آنے والی نسلوں کے لیے اِن ڈاک ٹکٹوں کی شکل میں محفوظ کر پائے جو ان کی وراثت کو پوری دنیا میں پھیلائیں گی۔"

اتحاد ریل کا قیام یو اے ای کی قومی ریلوے کی ترقی، تعمیر اور طریق عمل کی دیکھ بھال کے منشور کے تحت عمل میں لایا گیا جو یو اے کی آبادی اور صنعت کے بنیادی مراکز کو ایک دوسرے سے منسلک کرے گا اور جی سی سی ریلوے نیٹ ورک کے مجوزہ منصوبے کا ایک اہم جزو ہو گا۔ اتحاد ریل نیٹ ورک کا قیام ابو ظہبی اقتصادی ویژن 2030 اور یو اے ای ویژن 2021 کے عین مطابق ہے۔

مصدر سٹی ایک ایسا تحفظ پسندانہ،کاربن کی کم شرح کی حامل شہری ترقی اور آزادعلاقہ ہے جو ایک اعلیٰ معیار کی طرزِزندگی پیش کرتا ہے،جہاں لوگ رہتے ہیں،کام کرتے ہیں،کھیلتے اور سیکھتے ہیں۔ ایک ترقی پذیر تعلیمی مرکز کے طور پر مصدر سٹی ایک تحقیقی بنیاد کی حامل گریجویٹ یونیورسٹی، مصدر انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس و ٹیکنالوجی جیسی جامعہ کا گھر ہے۔ مصدر سٹی میں ڈھائی سو سے زائد کمپنیوں کے دفاتر ہیں جن میں سیمنز کے صدر دفتر برائے مشرق وسطیٰ، بین الاقوامی تنظیم برائے قابل تجدید توانائی (آئی آر ای این اے) کے صدر دفتر سمیت جی ای، شنائیڈرالیکٹرک، مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز اور دیگر کثیر القومی کمپنیوں کے دفاتر بھی شامل ہیں۔

شمس 1 شمسی توانائی پلانٹ، مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ارتکازی شمسی توانائی (سی ایس پی) پلانٹ ہے جسے مصدر ابوظہبی فیوچر انرجی کمپنی نے قائم کیا۔ مصدر نے سو میگا واٹ کے شمسی- تھرمل منصوبے کی تکمیل کی خاطر ٹوٹل اور ابینگواء کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ چھ سو ملین امریکی ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ جو اڑھائی مربع کلو میٹر یا دو سو پچاسی فٹ بال کے میدانوں پر محیط ہے،تین سال کی مدت میں مکمل ہوا۔ شمس 1 یو اے ای کے بیس ہزار گھروں کی بجلی کی ضروریات پورا کرتا ہے اور ملکی کاربن کے اثرات کم کرتے ہوئے یو اے ای کے انرجی مکس کے تنوع میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

خلیفہ بندرگاہ کا انتظام ابو ظہبی بندرگاہوں سے کیا جاتا ہے، جو نو تجارتی،انصرامی تنظیم، سماجی اور تفریحی بندرگاہوں کا تکمیل کار،منتظم اور عامل ہے۔ خلیفہ پورٹ خطے کے پہلے نیم خودکارکنٹینر ٹرمینل پرمشتمل ہے اور ابو ظہبی کی کنٹینر کی تمام آمدورفت کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اپنی موجودہ حالت میں خلیفہ بندرگاہ کی سالانہ گنجائش اڑھائی ملین ٹی ای یو کنٹینرزاور بارہ ملین ٹن عمومی ساز و سامان ہے۔ خلیفہ بندرگاہ سے ملحق خلیفہ صنعتی علاقہ (کیزاد) کئی طرح کے انصرامی تنظیم اور مصنوعات کی تیاری کے لیے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد کو خدمات فراہم کرنے والا کل وقتی تجارتی اورانصرامی تنظیم کا مرکز ہے۔

ان ٹکٹوں کا اجراء صرف 1 درہم کی مالیت میں چار مختلف نمونوں میں کیا گیا ہے۔ یہ تمام ڈاک خانوں میں سولہ ڈاک ٹکٹوں کے اوراق کی صورت میں دستیاب ہیں۔ ان ٹکٹوں کے ساتھ 5 درہم مالیت کے پہلے دن اجراء کردہ مہر شدہ لفافے کا بھی اجراء کیا گیا ہے۔


شارك برأيك
صوت العميل
لائیو چیٹ